रामेश्वर काम्बोज ‘हिमांशु’ رامیشور کامبوج ہمانشو
तर्ज़ुमा;राशिद अमीन नदवी –
ترجمہ:راشد امین ندوی
ایک بے لگام بادشاہ کو. مرتے وقت اس کے باپ نے کہا تھا“بیٹا رعایا شیر ہوتی ہے، بادشاہ کی مہارت اسی میں ہے کہ شیر پر سوار رہے، نیچے اترنے کا مطلب ہے موت.
اسلیے یہ خیال رکھنا کہ لوگ غلامی کے آگے کچھ نہ سوچ سکیں، عوام میں جو سردار مشہور ہو جائے اسے راستہ کا کانٹا سمجھ کر ہٹا دینا.”
بیٹے نے باپ کی نصیحت پر عمل کیا اور سب سے پہلے بوڑھے وزیر کو حوالات میں بند کر دیا، بوڑھا وزیر آج تک سارے حکومتی انتظام و انصرام کا ذمہ دار تھا.
اس بیچ کہیں سے اڑتا ہوا طوطا صوبہ میں آ پہنچا اس نے چاروں سمتوں میں اڑ کر کہنا شروع کر دیا” غلام رہنا سب سے بڑی بزدلی ہے، چپ رہ کر سہنا گناہِ عظیم ہے.”
رعایا میں چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں.
طوطے کی بولی کو خدا کی بولی سمجھ کر لوگ ایک جٹ ہونے ہونے لگے بادشاہ کو بھی سراغ مل گیا، اس نے طوطے کو پکڑوا کر پنجرے میں بند کروا دیا.
غصّائی رعایا نے طوطے کو آزاد کرانے کی آواز اٹھائی تو بادشاہ نے واہ واہی لوٹنے کے لیے اسے پنجرے سے آزاد کر دیا، طوطا اڑ کر دور کے درخت پر جا بیٹھتا، اس کے پہلے ہی رعایا بادشاہ کی دریا دلی کے قصیدے پڑھتی ہوئی لوٹ آئی.
لیکن طوطا اڑ نہ سکا، وہ دھیرے سے پنجرے کے پاس پہنچ گیا تھا کیونکہ اس کے پنکھ آزاد ہونے سے پہلے کاٹ دیے گئے تھے.